چپّل نامہ

چپّل نامہ

اللہ کا شکر ہے کہ میرے والدین کو اللہ تعالیٰ نے عمرہ کے ساتھ ساتھ حج کی سعادت بھی نصیب فرمائی۔سال 2015 ء میں افسربھائی صاحب اور بھابھی صاحبہ کے ساتھ والدین عمرہ کو گئے تھے۔ عمرہ کے لیے جانے کے وقت والدین اور سبھی کا قیام میرے گھر بھانڈوپ میں تھا۔اس وقت ابا نے کہا’’ چپل خریدنا ہے‘‘۔لہٰذا مَیںا ماں ابا کے لیے چپل خرید لایا ۔اماں کے لیے لائی گئی چپل اُن کے پَیر میں تنگ ہوئی تو ابا کی چپل ڈھیلی ثابت ہوئی لہٰذا مَیں اُن چپلوں کو لوٹا آیا اور اُن کے لیے دوسری چپلیں لے آیا۔اس بار اماں کے پیر میں چپل برابر بیٹھ گئی ۔اماں کو وہ چپل پسند بھی آئی ۔بڑی تلاش کے بعد ابا کے لیے جو چپل لایا تھا اُسے افسر بھائی صاحب نے یہ کہہ کر منع کردیا کہ’’ اِس کے بیلٹ چَوڑے ہیں ‘ یہ عمرہ میں نہیں چلیں گے‘‘۔مغرب کی نماز کے بعد مَیں وہ چپل لوٹا آیا اور پتلی بیلٹ کی چپل‘ ابا کے لیے لے آیا۔
پتلی بیلٹ کی اُس چپل کو دیکھ کر موسیٰ بھائی صاحب (بڑے بھائی صاحب) نے کہا کہ ’’مَیں ابا کے لیے بہت ہی خوبصورت اور اچھی چپل دیکھ کر آیا ہوں ‘اگر تم اس چپل کے بدلے وہ چپل لے آئو تو اچھا ہوگا‘‘۔اتفاق سے بڑے بھائی صاحب نے اُسی دُکان پر وہ خوبصورت چپل دیکھی تھی جہاں سے مَیں نے لایا تھا۔مَیں نے اُن سے کہا کہ’’ آپ ہی چپل لوٹا آئو ‘اوراس کے بدلے میں وہ چپل لے آئو‘‘۔بڑے بھائی صاحب وہ چپل لے آئے جو اُنہوں نے ابا کے لیے پسند کیے تھے۔وہ چپل ابا کے پَیر میں صحیح بیٹھی جسے انہوں نے پسند بھی کیا ۔لیکن کچھ ہی دیر بعد ابا نے کہا کہ’’ اِس چپل کا رنگ گنبد ِخضراء جیسا ہے جسے مَیں اپنے پیروں میں نہیں رکھ سکتا،یہ مناسب نہیں ہے‘‘۔اُس کے بعدبڑے بھائی صاحب اور افسر بھائی صاحب دونوں‘ مذکورہ دکان پر گئے اور اُس چپل کو لوٹا آئے اور کالے رنگ کی چپل لائے جسے ابا نے بہت پسند کیا ۔بالآخر اِس طرح پورے دن چلنے والامعاملہ رات کو ختم ہوا۔سب بہت خوش ہوئے۔
(جمعرات 03/11/2015) 

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *