میرے یُونس ماموں

بسم اللہ الرحمٰن النرحیم

مَست قلندرشخص

ملک اکبرحسن،ممبئی
9322719546
malikakbar662@gmail.com

یہی کوئی سن 1981یا 82 کا زمانہ رہا ہوگا ۔   ہمارے آنگن میں ایک کار آکر رُکی۔  کار میں ڈرائیور کے علاوہ صرف دو لوگ تھے باقی پوری کار میں سوٹ کیس،  بیگ اور بڑے بڑے تھیلے تھے۔  اس کی کیرئیر پر بھی بھاری سوٹ کیس بندھے ہوئے تھے ۔  کار سے سب سے پہلے کالوُ ماموں اُترے‘اُن کے بعد یونس ماموں کار سے باہر آئے۔  کسرتی جسم، چوڑا سینا، بھرے ہوئے کندھے۔   ہاف آستین کا چُست ٹی شرٹ پہنے ہوئے یونُس ماموں پہلوان کی طرح نظر آرہے تھے۔  بڑے بڑے سوٹ کیس اور بیگس کو وہ بڑی پھُرتی سے کار سے اُتارنے لگے اور اپنے گھر پہنچاتے رہے۔  ا ن کا گھر ہمارے پڑوس میں ہی تھا ۔  ہم سارے بچے کار کے ارد گرد جمع تھے اور محلے کے دیگر لوگ اپنے گھر کے دروازوں،  کھڑکیوں میں کھڑے‘یہ نظارہ دیکھنے لگے ۔  کار کی ڈکی میں بھی بہت سارا سامان بھرا ہوا تھا وہ بھی خالی کرایا گیا۔   بہت بعد میں ہمیں پتا چلا کہ کالوماموں جو یونس ماموں کے بڑے بھائی تھے‘دونوں بھائی دھندے بیوپار کے سلسلے میں دوسری ریاست میں گئے ہوئے تھے اور وہاں سے کئی برسوں بعد لوٹے ہیں۔  کچھ ہی دنوں میں محلے میں چے میگوئیاں ہونے لگیں کہ انہوں نے وہاں پر بہت بڑا ہاتھ مارا ہے تبھی تو اتنا مال آیا ہے وغیرہ ۔  

ہم بچوں کو بہت جلد پتا چل گیا کہ یونس ماموں کو ورزش کا بہت شوق ہے اوران کے اس شوق کے پیچھے جو محرک ہے وہ فلمی دنیا کی مشہور ہستی دھرمیندر ہے۔   انہیں  دھرمیند رسے متعلق ہر چیز سے بلا کی حد تک پیار تھاوہ دھرمیند کی طرح بولنے،  چلنے،  گانے اور ناچنے کی کوشش کیا کرتے تھے۔   ان کے پاس دھرمیندر کی بہت ساری تصویریں تھیں جسے وہ بڑی جتن سے رکھتے تھے۔  دھرمیند ر کی طرح بالوں کی اسٹائل بنانا، کپڑے پہننا‘انہیں  پسند تھا۔  اُن کا چہرہ مہرہ کچھ دھرمیندر سے ملتا جُلتا تھا بہت ممکن ہے کہ اسی وجہ سے دھرمیندر ُان کے ذہن و دماغ میں چھایا ہو۔  تھوڑا فرق یہ تھا کہ یونس ماموں کا رنگ گہرا سیاہ مائل تھا اور دھرمیندر۔   ۔   جب ماموں اپنے گھر سے نکلتے تو دھرمیندر کی کسی فلم کا گیت گنگناتے ہوئے چلتے تھے ۔  چونکہ گاؤں کا ماحول پرسکون ہوتا ہے اس لیے بہت دور تک ان کے گانے کی آواز گھروں میں سنائی دیتی تھی۔  جب وہ مسجدکے پچھلے حصے میں ورزش کے لیے آتے تو بہت سارے نوجوان محض ان کا کسا ہوا جسم دیکھنے اور اُن کی باتیں سننے کے لیے ان کے ارد گرداِکٹھّا ہوجاتے تھے۔  اس وقت دھرمیند ر کی فلم غضب،  قاتلوں کے قاتل، بغاوت اور شالیمار وغیرہ کا بہت چرچا تھا۔  ان فلموں کی باتیں اس دلچسپی سے یونس ماموں سناتے ‘کہ گھنٹوں وقت کیسے گزر جاتا پتا ہی نہیں  چلتا ۔  نہ صرف باتیں بلکہ بیچ بیچ میں وہ دھرمیندر اسٹائل میں ڈائیلاگ بولتے تو کبھی جوش میں ناچنے لگ جاتے ۔  ’’ میں جَٹ یملاپگلا دیوانہ،   اِتّی سی بات نہ جاناکہ کہ۔   ۔   ۔   ‘‘اس گانے کی ایک ایک اسٹیپ پر وہ ہوبہو دھرمیندر کی طرح ناچنے لگتے۔   آس پاس والے ان کے اس ’’ پرفامنس‘‘پر بہت ’’داد ‘‘دیتے حالانکہ اس داد میں حقیقی داد کم اور وقت گزاری کامقصد زیادہ ہوتا تھا۔   ان کی ایسی پیش کشوں پر ’’ کیا بات ہے ماموں،    ارے !! کیا بات ہے پہلوان،  مزہ آگیا،    ارے یار!! تم تو پورے دھرمیندر لگ رہے تھے ‘‘۔  جیسے جملوں کی بوچھار ان پر ہونے لگتی۔  اِن کلمات پر وہ خوشی سے پھُلے نا سماتے اور جوش میں آکر لوگوں کی تفریح کا سامان فراہم کرتے۔  

فلم ’’غضب ‘‘کا ایک منظر ہے جس میں دھرمیند ر کو پتھروں سے بنے دو‘د یو ہیکل ستونوں کے درمیان لوہے کی زنجیروں سے باندھا گیا ہے،  دھرمیندر کا چہرہ غصہ کی حالت میں لال پیلا ہورہا ہے،   وہ اپنی تمام تر طاقت کو یکجا کرتا ہے اور پوری طاقت سے زنجیروں کو اپنے مضبوط بازوئوں او رہاتھوں سے کھینچ کر تار تار کردیتا ہے ۔  زنجیریں ٹوٹ جاتی ہیں اور دھرمیندر غضب ناک انداز میں دشمن پر ٹوٹ پڑتا ہے‘‘۔  ماموں بڑی دلچسپی سے اس فلم کی باتیں بتا رہے تھے ۔  حسب سابق ہم لوگوں نے ماموں کی تعریفوں کے پُل باندھ دیے اور اُن سے ِاس سین کو پیش کرنے کا مطالبہ کردیے ۔  پھر کیا تھا ماموں جوش میں آگئے آناً فاناًاپنے گھر سے رسیّاں لے آئے اور مسجد کے پچھلے حصے میں غضب فلم کا سیٹ تیار ہوگیا۔  ہم نے ماموں کے جسم کو رسیوں سے لپیٹا اور ان رسیوں کو دائیں اور بائیں موجود درختوں کے تنو ں سے باندھ دیا۔  ماموںان درختوںکے بیچ دھرمیندر کی طرح آوازیں نکالنے لگے،  آنکھیں پھاڑ پھاڑ کر ڈائیلاگ بولنے لگے،   دوسرے ہی لمحہ انہوں نے اپنی پوری توانائی کو دھرمیندر کی طرح یکجا کیا اور رسیوں کو کھینچنے لگے۔  ادھر’’ آڈینس ‘‘کا شور بڑھنے لگا۔  ’’ واہ! پہلوان،   زبردست ماموں،  کیا بات ہے،    بہت اچھے‘‘کی آوازیں لگنے لگیں۔  کیا دیکھتے ہیںکہ رسیاں ٹوٹ چکی ہیں۔  ماموں پسینے میں شرابور ہیںاُن کے چہرے پر فخریہ مسکراہٹ ہے۔  چونکہ مسجد کے پیچھے کا احاطہ بہت بڑا تھا لہٰذا ہماری اِن ہنگامہ آرائیوں کا کوئی اثر مسجد والوں پر نہیں پڑتا تھا یا وہ’’ اپنے ہی بچے ہیں‘‘کہہ کراس جانب سے ایک آنکھ بند کرلیا کرتے تھے۔  دن گزرتے رہے کیا دیکھتے ہیں کہ دھرمیندرکے فرزند سنی دیول کی فلم بیتاب ریلیز ہوگئی ۔   چونکہ وہ زمانہ سنیما گھروں کا تھا،  اِکّا دُکا گھروں میں ٹی وی رہا ہوگا ۔   گاؤں  میں موجود دو عدد سنیما گھروں میں فلم آتے آتے پرانی ہوجاتی تھی اسی لیے ان فلموں کے گیت بھی کم ہی سنائی دیتے تھے لیکن بیتاب کے معاملے میں ایسا نہیں  ہوا ۔  یونس ماموں نے اس فلم کے سارے گیتوں کو گاگاکر ہمارے درمیان مقبول عام بنا دیا۔  ’’ پربتوں سے آج مَیں ٹکرا گیا ‘تم نے دی آواز لو مَیں آگیا‘‘،   ’’ جب ہم جواں ہوں گے ‘جانے کہاں ہوں گے ‘‘۔   ان گیتوں کو وہ اِتنے موڈ میں گاتے تھے کہ مزہ آجاتا۔  ہم پہلے واضح کرچکے ہیں کہ دھرمیندر سے متعلق ہر چیز سے انہیں  جنون کی حد تک پیار تھا اسی وجہ سے سنی دیول کے بھی وہ فین تھے نتیجتاً شبیر کمار کی آواز کے بھی شیدا تھے ۔  کچھ مہینوں بعد سنی دیول کی سونی مہیوال فلم ریلیز ہوئی ۔  اس فلم کا ایک نغمہ ’’ سونی !! میری سونی۔   ۔   ۔  ‘‘کو گا گاکر ماموں نے حسب ِروایت اسے خاص و عام میں مقبو ل کردیا۔  اس گیت کو گاتے گاتے وہ اتنے موڈ میں آجاتے تھے کہ انہیں  اس بات کا بھی اندازا نہیں  ہو پاتا تھا کہ وہ بجائے سونی کے ٹونی ! میری ٹونی اور نہیں  کوئی ہونی۔   ۔   گارہے ہیں۔  جب وہ جوش میں آتے تھے تو انہیں  اس بات سے کوئی سروکار نہیں  رہتا تھا کہ ان کے تلفظ کیسے نکل رہے ہیں ۔  بس گیت گنگنا نا ہے تو گنگنا ناہے ۔  اُس زمانے میں محرم کے دس دن ہمارے گاؤں  میں بہت گہماگہمی رہتی۔  تعزیے نکلتے،   مختلف اکھاڑے‘لاٹھی کاٹھی کے کھیل اور کرتب بتاتے۔  ہر محلہ اس میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتا اور اپنے ہنر کے ذریعہ دیگر اکھاڑوں اور محلوں پر فوقیت ثابت کرنے کی کوشش کرتا۔  ہر محلے کے اکھاڑے جسے ’’تعلیم ‘‘کہا جاتا تھا اُن کے نام پر ٹی شرٹ چھَپتے‘جسے پہن کر لوگ اپنی مہارتوں کا مظاہرہ کرتے۔  ٹیپوسلطان تعلیم،  محمدی تعلیم،   شیر خدا تعلیم ‘جیسے ناموں،   مختلف رنگوں کے ٹی شرٹ پہنے لوگ بلخصوص نوجوان یہ محلے سے وہ محلے آیا جایا کرتے ۔  پورے گاؤں  میں جوش وخروش کا ماحول ہوتا۔  ہمارے محلے کی مسجد کے احاطے میں بھی بڑے اہتمام سے ان کھیلوں،  لاٹھی گھمانے اور کاٹھی چلانے کی مشقیں ہوا کرتی تھیں۔  محرم سے ایک مہینے قبل ہی مشقیں شروع ہوجاتیں۔  یونس ماموں بھلاکیوں پیچھے رہتے ؟وہ بھی اس میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا کرتے تھے۔  

تعزیہ کے دن کے لیے انہوں نے ایک’’ پیش کش‘‘تیار کی‘اس کے مطابق یہ طیے کیا گیا کہ ماموں ’’ دشمنوں ‘‘کے نرغے میں ہیں ۔  دشمنوں کے ہاتھ میں کاٹھیاں ہیں ۔  دشمن کاٹھیوں سے اُن پر وار کرتے ہیں لیکن اس مار کا اُن پر کچھ اثر نہیں  ہوتا اور ساری کاٹھیاں ان کے جسم سے ٹکرا کر ٹوٹ پھوٹ جاتی ہیں اور ماموں دشمنوں کا کام تمام کردیتے ہیں۔  گاؤں  کی ندی کے کنارے بہت سے خود رَو پودے تھے‘جنہیں  مقامی لوگ ’’ناگِن،   بے شرم‘‘کی جھاڑیاں کہتے تھے تو کچھ لوگ ’’صدا بہار‘‘۔  اس کی کاٹھیوں کو سُکھا کر سیدھی سیدھی کاٹھیاں یونس ماموں نے تیار کیں انہیں  ہلدی تیل لگار کر بانس کی کاٹھی کی طرح بنائے۔   مشق کے دوران سب ’’ دشمنوں ‘‘کے ہاتھ میں اِن کاٹھیوں کا تھمادیے اور کہاکہ سب ایک کے بعد ایک وار کرنا شروع کرو۔  ماموں نے سانس کو کئی منٹ تک اپنے سینے میں بھرے رکھا اور دشمنوں نے وار کردیا۔   کاٹھیاں ماموں کے کسیلے جسم پر پڑنے لگیں اور کڑا کڑ ٹوٹ کر اس کے ٹکڑے فضا میں بکھرنے لگے۔  کئی دن کی مشق کے بعد گاؤں  کے تعزیے کا دن آگیا اور ہماری تعلیم کی پیش کش شروع ہوئی۔  ماموں آج حسب روایت جوش میں تھے۔  سب لوگ دم سادھے بہادری کے اس کھیل کو دیکھ رہے تھے۔  اسکرپٹ کے مطابق ماموں نے دشمنوں کا للکارا‘دوسرے ہی لمحہ اُن پر کاٹھیاں برسنے لگیں اور ٹوٹ کر اِدھر اُدھر بکھرنے لگیں ۔  اس کے بعد ماموں دشمنوں پر ٹوٹ پڑے اور ان کا کام تمام کردیا۔  سب لوگوں نے تالیاں بجا بجا کر ماموں کو داد تھی ۔  لیکن یہ کیا!!؟ ماموں کے کندھوں اور پیٹھ پر لال لال وَرم کیسے؟ ماموں کو اس سے بہت درد بھی ہورہا تھا لیکن وہ اسکا اظہار نہیں کررہے تھے۔  یہ نشان کیسے؟ دراصل ’’ دشمنوں‘‘میں سے دو تین شرارتی نوجوانوں نے اپنے ہاتھ میں صدار بہار کی لاٹھیوں کی بجائے بانس کی لکڑیاں لے لیے تھے اور اسی کو ماموں پر برسا دیے تھے ۔  جس کی وجہ سے ان کے پورے بدن پر بل پڑگئے تھے کندھوں اور پیٹھ پر اس کے نشانات نظر آرہے تھے ۔  جس کا ماموں نے کچھ بُرا نہیں  مانا اور ہنس کھیل کر اس معاملے کو ایسے بھول گئے جیسے کبھی کچھ ہوا ہی نہیں ۔  

شب وروز اسی طرح گزرتے رہے ۔  رفتار زمانہ میرے والد صاحب کا تبادلہ ہونے کے سبب ہمیں گاؤں  چھوڑنا پڑا۔  مَیں اپنی پڑھائی،   ملازمت اور دیگر مصروفیت کے سبب کئی برسوں تک ماموں کو مل نہ سکا نا ہی ویسے فرصت کے لمحات پھر کبھی میسر آئے جیسے پہلے تھے۔  اس دوران ماموں کی شادی ہوئی،  بچے ہوئے،    بڑے بھائی کالو ماموں دوسرے مقام پر شِفٹ ہوگئے اور یونس ماموں گاؤں  میں ہی رہ گئے ۔   ہم نے کبھی یونس ماموں کو اپنے بڑے بھائی کے سامنے اونچی آواز میں بات کرتے یا اُن کی حکم عدولی کرتے نہیں  دیکھا۔  جو کالو ماموں بولتے اسے وہ بغیر چوں چراں قبول کرلیتے۔  اس لیے دونوں بھائیوں کی جدائی کی کوئی وجہ سمجھ میں نہیں  آئی ۔  اب گاؤں  میں کرائے کی کھولی میں یونس ماموں کی فیملی اور ایک بڑی بہن جسے سب معراج آپا بلاتے تھے‘رہنے لگے۔  جب گاؤں  میں پیٹ کی آگ بجھانا دوُبھر ہوگیا تو انہوں نے اہل و عیال کا پیٹ بھرنے کے لیے شہر سورت کی راہ لی ۔  شہر سورت ایک ایسا مقام ہے کہ یہاں آکر بہت سے بے روزگار محنت مزدوری کرکے اپنا پیٹ بھر لیتے ہیں۔  چونکہ میرے بڑے بھائی یہاں رہتے ہیں اس لیے میرا بھی یہاں آنا جانا لگا رہتاہے۔  اسی سبب ایک مرتبہ سورت کی گنجان مسلم بستی میٹھی کھاڑی کی ایک تنگ گلی سے گزر رہا تھا توکسی نے آواز دی ’’ اکبر‘‘مَیں چونک کر مُڑا‘اور دیکھتے ہی پہچان لیا کہ یہ معراج خالہ ہے ۔  اُن سے مل کر بہت خوشی ہوئی۔   مَیں نے یونس ماموں،   کالو ماموں کی خیریت دریافت کی ۔  بتانے لگیں کہ یونس ماموں کام پرگئے ہیں شام کو آئیں گے اور کالو ماموں اپنے بیوی بچوں کے ساتھ مالیگاؤں  رہتے ہیں۔  تقریباً بیس برس بعد ہم ملنے والے تھے لیکن کسی سبب اُس وقت ملاقات نہ ہوسکی ۔  

ماموں کے بچپن کے ساتھی بتاتے ہیں کہ ُان کے ابتدائی ایام بہت کسم پُرسی میں گزرے۔  چٹنی مرچی پر گزارا ہوتا۔   اِن حالات میں بھی اگر کوئی دوست کھانے کے وقت آجا تا تو اسے بہ اصرار کھانے پر بٹھاتے اور حیلہ بہانہ کرکے کھانے سے اُٹھ جاتے یا یونہی کچھ دیر بیٹھ کر اس دوست کو کھلاتے رہتے۔  یعنی خو د بھوکے رہ کر دوستوں کو کھلانے میں انہیں  مزہ آتا تھا۔  یونس ماموں کے گھر کے معاشی حالات اتنے خراب تھے کہ وہ سادی سائیکل بھی خرید نہیں  سکتے تھے ۔  والد کا سایہ بچپن ہی میں اُٹھ چکا تھا۔  اپنے سائیکل کے شوق کو انہوں نے کچھ اس طرح پورا کیا کہ بھنگار والے سے سائیکل کے پہیے کی رِنگ کو خریدا اور اسے ہی چِکنی لکڑی سے ڈھکیلتے اور یہاں سے وہاں دوڑاتے رہتے ۔  اپنی ماں کی دوائیاں لانے بازار جانا ہوتا‘جو کہ ندی کے اُس پار کافی دور تھا وہاں بھی اسی رنگ کو دوڑاتے ہوئے جاتے اور اپنی ماں کے لیے دوائی لاتے تھے ۔  بڑے بھائی صاحب کا کہنا تھا کہ ماموں کو اس بات سے بہت خوشی ہوتی تھی کہ اپنے خاندان اور قوم کے بچے آگے بڑھ رہے ہیں ۔  وہ ان کو صحت مند دیکھنا چاہتے تھے اس لیے ورزش کی اہمیت و افادیت کو ہر بار بتاتے رہتے تھے۔  وہ جس قدر جسمانی طور سے مضبوط تھے ان کا دل اتنا ہی نرم تھا ۔  ان سے کسی کی تکلیف دیکھی نہیں  جاتی تھی وہ اس کو دور کرنے کے لیے مقدور بھر کوشش بھی کیا کرتے تھے اور اس شخص کاحوصلہ بڑھاتے رہتے تھے۔  اکثر ’’ فکرنہ کرنابیٹا!،   سب اچھا ہوجائے گا،  بنداست رہنا،  کھائو پیو یار! اللہ بہت بڑا ہے ۔  ‘‘جیسے جملے بول کر وہ پریشان حال لوگوں کا حوصلہ بڑھاتے تھے۔  وہ اپنی جسمانی رنگت کے اعتبار سے کالے تھے لیکن ان کا دل چودھوی کے چاند کی طرح صاف و شفاف تھا۔  

مَیں دوبارہ سورت آیا تو اچانک یونس ماموں سے ملاقات ہوگئی ۔  میری خوشی کی کوئی انتہا نہ تھی۔  گو کہ ماموں پچاس کراس کرچکے تھے لیکن صحت آج بھی ماشااللہ ویسی ہی تھی پتا چلا کہ یہاں پر وہ بڑی بڑی سلائی کے بیموں کو یہاں سے وہاں ڈھونے کا کام کرتے ہیں ۔  اس محنت طلب کام کے سبب آج تک ان کا بدن مضبوط تھا اور بہت ممکن ہے کہ اُن کی ورزش کی عادت اب بھی رہی ہو۔  لیکن اب دھرمیند ر اور اس کی فلموں کا شوق سر سے اُتر چکا تھا۔  اب زندگی کے نشیب و فراز تھے اور کچھ گاؤں  کی یادیں‘جسے یاد کرکے ماموں بہت خوش ہوتے۔  ہم جب بھی ملتے گاؤں  کی یادیں نکل جاتیں اور محفل گُلِ گلزار ہوجاتی۔  اُن کی بڑی خواہش تھی کہ ممبئی میرے گھر آئیں اور اس لیے ایک دن بڑے بھائی صاحب کے ساتھ ماموں میرے گھر ممبئی آئیں۔  رات کے کھانے کے بعد مَیں نے اپنی خواہش کا اظہار کردیا ’’ ماموں جان! ایک بار ہوجائے دھرمیندر۔   ۔  ‘‘پھر کیا تھا ماموں راضی ہوگئے اور دھرمیندر اور سنی دیول کے گیت گنگنانے لگ گئے ۔  اس وقت میرے پاس جو موبائیل تھا مَیں نے اس سے اس کی شوٹنگ کیا اور بعد میں اسے یوٹیوب پر ڈال دیا ہوں ۔   ماموں نے اُس رات پھر ‘پرانی یادوں کو تازہ کردیا تھا۔  دیر رات گئے تھے ہم مختلف باتیں کرتے رہے۔   
اب جب بھی مَیں سورت جاتا تو ماموں سے ضرور ملتا ۔  تو کبھی وہ بھی بڑے بھائی صاحب کے یہاں آتے ‘میری اماں کو وہ بڑے پیار سے آپا آپا کہہ کرمخاطب کرتے،   میرے والد کے ساتھ ہنسی مذاق کرتے اور دیر تک مختلف موضوعات پر باتیں ہوتی رہتیں۔   ایک دن بہ اصرار مجھے اپنے گھر لے گئے،   مومانی سے چائے بنانے کا کہا،   چائے پلائے اپنی بہو بیٹوں سے ملاقات کرائی ۔  ماموں کی ایک صفت یہ بھی تھی کہ وہ دوسروں کو کھلانے اور چائے پانی کرانے میں بہت خوش ہوتے تھے حالانکہ محض کچھ عرصے کو چھوڑ کر اُن کے معاشی حالات کبھی اچھے نہیں  رہے پھر بھی جو میسر ہوتا اس سے لوگوں کی ضیافت کرکے بہت خوش ہوا کرتے تھے۔  

جب کچھ مہینوں بعدپھر میرا سورت جانا ہوا تو دیکھا ماموں کے چہرے پر خوبصورت داڑھی سجی ہوئی ہے۔  چوڑی چوڑی صورت پر بھری ہوئی داڑھی بہت اچھی لگ رہی تھی جس کے سارے بال سفید ہوچکے تھے۔  ان کا چہرہ بہت خوبصورت لگ رہا تھا۔  کشادہ پیشانی،   گال بھرے ہوئے،   مسکراتا چہرہ ۔  اُنہیں  دیکھ کر بہت خوشی ہوئی ۔  اُس وقت ماموں نے بتایا کہ اب وہ کام نہیں  کرتے،   بچے منع کرتے ہیں اس لیے گھر پر ہی رہتے ہیں۔    اِسی طرح پھر کچھ مہینوں بعد سورت گیا تو پتا چلا کہ بلڈ پریشر کے سبب ماموں دواخانے میں ایڈمٹ ہیں۔    معراج خالہ بڑے بھائی کے گھر آئیں تو مجھ سے ملاقات ہوگئی کہنے لگیں یونس ماموں دواخانے میں ایڈمٹ ہیں‘مَیں اُن کے لیے زم زم لینے آئی ہوں۔  میں نے انہیں  آب زم زم کی بوتل دیاجسے لے کر خالہ چلی گئیں۔  ہائے رے میری تساہلی! !مَیں نے اُس وقت اِس بات کو ہلکے اندازسے لیا اور اُن کی عیادت کو نہیں  جاسکااور کچھ دن رہ کر سورت سے لوٹ آیا۔ چونکہ میرے والدین بڑے بھائی صاحب کے پاس ہی رہتے تھے اس لیے اکثر میرا سورت جانا آنا لگا رہتا تھا‘سوچا ماموں جب ڈسچارج ہوجائیں گے تو اطمینا ن سے اُن سے گھر جاکر ملاقات کرلوںگا ۔ لیکن وہ موقع نہیں  مل سکا۔ کچھ ہی دنوں بعد بڑے بھائی صاحب کے ذریعہ پتا چلا کہ یونس ماموں اِس دنیا سے رخصت ہوگئے۔  یہ خبر سن کر میرے اوسان خطا ہوگئے،   مَیں اپنے آپ کو کوسنے لگا،   کاش مَیں اس وقت اُن کی عیادت کرلیتا،   کچھ دیر ان سے بات کرلیتا تو کتنا اچھا ہوتا۔   

زندگی اورموت تو اللہ کے ہاتھ میں ہے ۔ موت کا جب وقت آتا ہے تو ایک ساعت بھی آگے ہوتا ہے نہ پیچھے ۔   لیکن مسئلہ یہ ہے کہ بشمول میرے‘سب انسان اس سے ایسے غافل رہتے ہیں جیسے ابھی کچھ نہیں  ہوگا۔   یونس ماموں کے بارے میں بھی ایسا ہی ہوا ۔  میں نے‘یہ کبھی سوچا نہ تھاکہ اتنا ہنس مکھ،   ملن سار اور صاف دل شخص اتنی جلدی اس دنیا سے رخصت ہوجائے گا ۔ ایک مست قلندر شخص کی مدت عمر ختم ہوگئی تورب نے اسے اپنے حضور بُلا لیا۔ اللہ انہیں  غریق ِ رحمت کرے،   اُن کے درجات کو بلند کرے ۔   آمین
( جمعرات 02/04/2020 )

 

2 thoughts on “میرے یُونس ماموں”

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *