قابل تقلید نمونہ

ایک قابل تقلید نمونہ

ایک عورت ہونے کی حیثیت سے ’’ا ُسے‘‘ بھی مختلف رُکاوٹوںاور ذمہ داریوں کا سامنا کرنا پڑا۔ان رکاوٹوں کو دور کرتے ہوئے اسے اپنا نصب العین حاصل کرنا تھا۔اگر خواتین کو اپنے گھر والوں کا ساتھ ملے تو اسے کامیابیوں کے آسمان کو چھوُونے سے کوئی روک نہیں سکتا ۔بُلڈانہ جلع کی ارچنا وان کھیڑے نے اپنی اچھی خاصی تنخواہ والی ملازمت کو چھوڑ کر آئی اے ایس بننے کا خواب دیکھا اور اپنی کڑی محنت سے اس خواب کو پورا کرنے میں کامیاب ہوگئی۔آئی اے ایس بننے کا سفر بڑا دشوار گزار رہا ۔آئیے ہم ان ہی کے الفاظ میں ان کی اس کامیابی کی روداد سنتے ہیں۔

یو پی ایس سی امتحان دراصل ایک چمکدار ستارہ ہے اس ستارے سے مَیں کوسوں دوُر تھی۔ڈونگر شیولی ضلع بلڈانہ میرا وطن ہے ۔میرے بابا اسٹیٹ ٹرانسپورٹ (S.T.)شعبہ میں کلرک ہونے کی وجہ سے میری ابتدائی تعلیم تا بارہیوں بلڈانہ میں ہی ہوئی ۔اس کے بعد چِکھلی انجینئرنگ کالج سے ڈگری اور پوسٹ گریجویٹ وشو کرما کالج پونا سے حاصل کی۔

ٹرننگ پائنٹ:

بابا کلرک ضرور تھے لیکن بنیادی طور سے وہ ایک کسان تھے ملازمت کے ساتھ ساتھ ہمارے گائوں کی چھوٹی سی زراعتی زمین پر وہ کاشتکاری کیا کرتے تھے جس سے ہمار ے گھر کا گزارا ہوتا۔لہٰذا بچپن ہی سے کسانوں ،غریبوں کے مسائل سے واقف ہونے کا موقع ملتا رہا۔اسی زمانے میںیہ بات ذہن میں بیٹھی کے میں نے ان غریب کسانوں کے لیے کچھ اچھا کرنا چاہئے ۔ہماری تعلیم سے ان غریبوں کا کچھ نہ کچھ بھلا ہونا چاہئے یہ بات ہمیشہ ذہن و دماغ میں چھائی رہتی ۔ابتدائی دنوں میں تو اس خواہش کو پورا کرنے کا کچھ موقع نہیں ملا بعد میں میری شادی ہوگئی اور ایک بیٹی کا بھی اضافہ ہوگیا۔شادی بعد مَیں ممبئی کے سومیہ کالج میں پروفیسر بن گئی ۔میری ملازمت اور شوہر سافٹ ویئر انجینئر ہونے کی وجہ سے ہم معاشی بے فکری تھی۔پھر بھی ذہن میں یہ بات گردش رہتی کہ یہ میری منزل نہیں ہے میں نے عام و غریب انسانوں کے لیے کچھ نہ کچھ کرنا چاہئے۔ان کے لیے کچھ نہ کرنے کی وجہ سے دل کچوکے لیتا رہتا ۔مستقل یہ بات ذہن پر حاوی رہتی کے میں بہت غلط کررہی ہوں۔ان ہی خیالات کی وجہ سے مَیں نے یو پی ایس سی امتحان کامیاب ہوکر سرکاری ملازمت میں جانے کا فیصلہ کرلیا۔

کامیابی کا سفر:

یوپی ایس سی کا فیصلہ کرنے کے بعد اس کی اسٹڈی کرنے لگی ۔2011؍ میں پہلی کوشش کی لیکن کامیاب نہ ہوسکی۔اس کے بعد بہت نا اُمیدی چھائی رہی ۔اس کے بعد 2013؍ میں مجھے بیٹی ہوئی ۔وہ دوسال کی ہوئی اس کے بعد پھر 2015؍ میںفارم پُر کیا اور امتحان دیا۔اس طرح چار مرتبہ امتحان دے کر بھی پریلیم امتحان میں کامیاب نہ ہوسکی۔اس دوران نے مَیں نے اندازا لگایا کہ میں اس امتحان کی پڑھائی کے لیے سو فیصد وقت نہیں دے پارہی ہوں اس لیے بیٹی کو سسرال میں رکھ کر مَیں نے سال 2017 ؍ میں یشودہ میں داخلہ لے لیا۔یہی پر مستقل مزاجی کے ساتھ پڑھائی کرکے پانچویں کوشش میں پریلیم امتحان کے ساتھ ساتھ مین امتحان بھی کامیاب کی اور انٹرویو کے پڑائو تک پہنچی اور محض 8؍ نمبرات کی کمی کی وجہ سے کامیابی حاصل نہ کرسکی۔جبکہ مجھے اس میں کامیابی کی پوری امید تھی ۔بحرحال چھَٹی کوشش کے لیے صرف 20 to 25؍ دن ہی بچے تھے اس موقع پر میرے بھائی نے میرا بہت ساتھ دیا ۔وہ بھی آئی آئی سی ادارے سے مقابلہ جاتی امتحان کی تیاری کررہا ہے۔2018؍ میں مَیں بھی اس ادارے سے منسلک ہوئی یہاں مجھے اس امتحان سے متعلق بہت اچھی و مفید رہنمائی ملی ۔پونے کی رہائش کے دوران پروین چوہان کی بھی گراں قدر خدمات حاصل ہوئیں۔ان ہی وجوہات کے طفیل پرجوش انداز سے پڑھائی کرتی رہی اور سال2018 ؍ میں آئی اے ایس بننے کا خواب پورا ہوا۔اس طرح بلڈانہ ضلع کی پہلی خاتون آئی اے ایس بننے کا خطاب مجھے ملا جس کی مجھے بہت خوشی ہے ۔

گھر والوں کا ساتھ:

بابا پنڈھری ناتھ و ماں لکشمی مظبوطی کے ساتھ میرا ساتھ دیتے رہے۔ان ہی کے ساتھ کی وجہ سے ہم چاروں بھائی بہن انجینئر بنے ۔ماں کو ٹیچر،کلرک یا نرس بننے کے مواقع تھے انہوں نے ہماری تعلیم کی خاطر ان سب پر پانی پھیر دیا اور ایک گھریلوں خاتون رہ کر ہماری تعلیم و تربیت میں غیرمعمولی قربانی دی۔خوش قسمتی سے سسرال بھی بہت اچھا ملا شوہر ،ساس اور سسر جی نے بھی میرے تعلیمی سفر میں میرا ساتھ دیا ۔میری بیٹی بھی بہت سمجھدار ہونے کی وجہ سے ایک جذباتی ساتھ بھی مجھے ملا۔اس دوران میں کبھی کبھی اس سے ملنے بھی جاتی ۔پھر ایسا ہوا کے امتحان کے آخری پڑائو کے دوران ملازمت کے سلسلے میں میرے شوہر کو بیرون ملک جانا پڑا اس دوران ہماری بیٹی کو میرے والدین نے سنبھالا اس کے لیے انہوں نے اس دوران کھیتی باڑی کو بھی کوئی اہمیت نہیں دی اور اس دوران کی کاشتکاری نہ کرتے ہوئے زمین کو ایسے ہی چھوڑے رکھا۔ان سب باتوں کے پیش نظر میں کہتی ہوں کہ گھر والوں کے ساتھ کے بغیر یہ امتحان کامیاب کرنا میرے لیے بڑا مشکل ہوجاتا۔

گروپ ڈسکشن:

یشودہ کی پڑھائی کے دوران ہم پانچ چھ لوگوں کو ایک گروپ تھا۔ہم گروپ ڈسکشن کرتے تھے ۔چائے کے وقفہ کے دوران بھی ہم اسی امتحان کے مطالعہ سے متعلق چرچا کیا کرتے تھے ،رات کے کھانے کے بعد حالات حاضرہ پر بات چیت چلتی ۔اس طرح کے مثبت ماحول کے درمیان ایک منٹ بھی ہمارا ضائع نہیں ہوتا تھا۔اَن اکیڈمی ،اسٹڈی آئی کیوجیسے آن لائن ذرائع کا بھی مَیں نے بھرپور فائدہ اُٹھایا۔جو پڑھائی کرتے کرتے بہت بور ہوجاتی تب راجیہ سبھا چینل پر چلنے والے مباحثوں کو دیکھتی یا نصاب کے کسی دلچسپ موضوع سے متعلق یوٹیوب پر ویڈیوز دیکھا کرتی ۔اس طرح کے جدید ذرائع کا استعمال کرکے مَیں نے اپنے وقت کو ضائع ہونے سے بچائے رکھا۔

اِنٹرویو:

جب آپ اس امتحان کے لیے عریضہ پُر کرتے ہیں جسے ’’ ڈٹیل ایپلی کیشن فارم کہا جاتا ہے اس میں امیدوار جو معلومات فراہم کرتا ہے جیسے جائے پیدائش اس مقام کی کوئی تاریخی حیثیت اگر ہو یا وہاں کی کوئی بات منفرد یا مشہور ہو،مخصوص جغرافیائی حالت،وہاں کے مسائل وغیرہ سے متعلق سوالات انٹرویو میں پوچھے جاتے ہیں اس کے علاوہ حالات حاضرہ پر بھی پوچھا جاسکتا ہے ۔مجھے یشدا،ایس آئی اے سی اور مہاراشٹر سَدَن کے ماحول کا انٹرویو کے دوران بہت فائدہ ملا۔

آئیڈیل

وِل اسمتھ کا ایک قول ہے ’’ آئی وانٹ ٹو ری پرزینٹ پاسی بلی ٹیس‘‘ ۔اس قول کا مجھ پر بہت اثر ہوا ۔کوئی غیر معمولی یا ناممکن لگنے والا کام اگر ہم کریں تو یہ دوسروں کے لیے نمونہ ،مثال بنتا ہے ،دوسروں کے لیے تحریک کا باعث ثابت ہوتا ہے ۔اس بات کا احساس مجھے ہر پل تھا اسی لیے جب بھی کوئی رکاوٹ یا مشکل آتی اُن کا مقابلا کرکے مجھے لوگوں کے سامنے ایک نشان راہ قائم کرنا تھا اس کے لیے کڑی محنت کرنے کے لیے مَیں ذہنی طور سے تیار رہی اور اس پر عمل کرکے کامیابی حاصل کی۔لہٰذا میرا تجربہ ہے کہ زندگی کا کوئی بھی شعبہ ہو اس کے ممکنات (Possibilities)کو دھیان میں رکھ کر آگے بڑھنا چاہئے اس طرح آپ بڑی سی بڑی کامیابی حاصل کرسکتے ہیں۔

کامیابی کے اُصول:

٭این سی آر ٹی کی کتابیں جو آسانی سے نیٹ پر دستیاب ہیں ‘اُن کا مطالعہ کرکے اپنی بنیاد کو مظبوط کرنا۔
٭جس مضمون کا مطالعہ کرنا ہے سب سے پہلے اس کے پرچوں (Question Papers)کا مطالعہ کیجئے۔پریلیم امتحان سے قبل پریلیم کے ،مین سے پہلے مینس کے پرچوں کا مطالعہ کریں اس کی وجہ سے آپ کی اسٹڈی کو ایک رُخ ملے گا اور پڑھائی کس طرح کرنا چاہئے اس کے لیے بہت مدد ملے گی۔
٭ مطالعہ کے لیے لگنے والے اسباب کو محدود رکھیے۔چونکہ اسٹڈی کے لیے وقت کم ملتا ہے اس لیے اپنے آس پاس کتابوں کا انبار لگانے کی بجائے اس امتحانات کے ماہرین سے مشورہ کرکے متعلقہ کتابوں کی فہرست متعین کیجئے ۔ساتھ ہی اچھے نمبرات و رینک سے کامیاب ہونے والے امیدواروں کی تقاریر و لیکچرر کو یوٹیوب سے سن کراپنے مطالعہ کا منصوبہ بناکر عمل شروع کردیجیے۔
٭اپنے مطالعہ کا جائزہ بہت ضروری ہے لہٰذا امتحانات سے قبل مختلف طریقوں سے اُس کا جائزہ ضرور لیں۔جب تک آپ مطمئن نہ ہوجائیں تب تک یہ جائزہ اور مشق کرتے رہیں۔
٭اپنے اعتماد و جوش کا ہمیشہ زندہ رکھیں،سرد مہری نہ آنے دیں۔جب تک اپنے آپ پر بھر پور اعتماد نہیں ہوگا تو آپ مثبت انداز سے اس امتحان کو دے نہیں پائیں گے۔
٭ ہمیشہ مثبت ماحول میں اپنے آپ کو رکھیے۔منفی خیالات و مایوس کرنے والے لوگوں سے دور رہیے۔مثبت سوچ والے دوست و سہیلیوں کے ساتھ اپنا وقت گزاریئے۔جتنا آپ مثبت ماحول میں رہیں گے اُتنا ہی آپ کی اسٹڈی اچھی طرح ہوگی اور آپ مایوس نہیں ہوں گے۔
٭بغیر قربانی کے کچھ حاصل نہیں ہوتا لہٰذا قربانی دینے کے لیے ذہنی طور سے تیار رہیں،جتنی بڑی کامیابی ہوتی ہے اُتنی بڑی قربانی دینی ہوتی ہے اس لیے اس امتحان کے لیے بھی بہت سی چیزوں کی قربانی دینے کے لیے تیار رہیں۔جب آپ اس امتحان کی تیاری کرتے ہیں اور کچھ امتحانات دیتے ہیں تو چھوٹی موٹی سرکاری ملازمت تو آپ حاصل کرہی لیتے ہیں۔یہ بات ایک طرح سے ہمیں اپنے آئی اے ایس کے مقصد سے دور کرنے والی ہوتی ہے ۔یہ خیال ہمیں بڑی کامیابی سے دور کرکے چھوٹی ملازمت پر قناعت یا اکتفا کرنے پر مجبور کردیتا ہے ۔یہ ملازمت ہمارا ’’ پلان بی‘‘ یعنی ایک متبادل تو ہوسکتا ہے اور یہ بات ہمیں مایوس ہونے سے بھی روکے گی ۔لیکن وقت پڑنے پر ان چھوٹی ملازمت کی قربانی دینے کے لیے بھی ہمیں تیار رہنا چاہئے۔
٭ میں دیہات یا گائوں کا ہوں ،مجھے انگریزی اچھی طرح نہیں آئی ،اب تو میری شادی ہوگئی ،بچہ یا بچی بھی ہے ۔یہ باتیں سب کے سب منفی خیالات کو جنم دیتے ہیں ۔اگر انسان عزم کریں تو کوئی کام مشکل نہیں ہے ۔مَیں ایسی کئی مثالیںبشمول میرے پیش کرسکتی ہوں کہ جنہوں نے اِن اور اِن سے زیادہ ناموافق حالات میں کڑی محنت کے ذریعہ یو پی ایس سی میںنمایاں کامیابیاں حاصل کی ہیں۔اگر آپ نے سنجیدگی کے ساتھ طئے کرلیا تو راہ میں حائل تمام رُکاوٹوں کو مات کرتے ہوئے یقینا کامیاب ہوسکتے ہیں۔بس ایک دھُن و ضِد ہمارے دل و دماغ میں سوار رہنی چاہئے۔محنت کرنے اور قربانی دینے کی تیاری ہو تو کامیابی حاصل کرنا قطعی مشکل نہیں ہے۔
٭آن لائن سہولیات جیسے یوٹیوب،ایپس اور ویب سائٹس وغیرہ کا مثبت انداز اور موثر طریقے سے استعمال کیجئے۔

1 thought on “قابل تقلید نمونہ”

  1. زاہد احمد شیخ
    ماشا اللہ۔ بہت خوب ملک اکبر صاحب۔ اللہ کرے زورِ قلم اور زیادہ۔

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *